28 جولائی 2026 - 10:11
مغربی ایشیا؛ پینٹاگون اور سینٹکام کے ویرانوں پر آگ کا رقص

اے دنیا نظارہ کر، دیکھ لے، کہ کسی دن ایران پہلوی کے دور میں ایک خائن و غدار کے چنگل میں گرفتار اور امریکی مفادات کا بڑا نگہباں تھا۔ دیکھ لے کہ اسی سرزمین میں کیپیٹولیشن کے قانون پر دستخط ہوتے تھے؛ ایسا قانون جو ایک ایرانی شہری کو امریکی کتے کے برابر سمجھتا تھا اور اس سرزمین کی حکمرانی واشنگٹن کے تکبر کے سامنے گھٹنے ٹیکتا تھا۔ وہ دن یاد کر جب امریکہ اس ملک کا تیل سستے داموں لے جاتا تھا اور ایران کو استکباری مفادات کا نوکر بنایا گیا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اے دنیا نظارہ کر، دیکھ لے، کہ کسی دن ایران پہلوی کے دور میں ایک خائن و غدار کے چنگل میں گرفتار اور امریکی مفادات کا بڑا نگہباں تھا۔ دیکھ لے کہ اسی سرزمین میں کیپیٹولیشن کے قانون پر دستخط ہوتے تھے؛ ایسا قانون جو ایک ایرانی شہری کو امریکی کتے کے برابر سمجھتا تھا اور اس سرزمین کی حکمرانی واشنگٹن کے تکبر کے سامنے گھٹنے ٹیکتا تھا۔ وہ دن یاد کر جب امریکہ اس ملک کا تیل سستے داموں لے جاتا تھا اور ایران کو استکباری مفادات کا نوکر بنایا گیا تھا۔

لیکن آج ۔۔ ذرا ایک نظر ڈال دے اس خطے پر۔ دیکھ لے ان ممالک کو جو ٹرمپ کی ایک مسکراہٹ کمانے کے لئے اس کے پاؤں پر پڑ گئے اور اس کے نحوست زدہ ہاتھوں کے بوسے لے رہے ہیں؛ دیکھ لے ان حکمرانوں کو جو ناقابل وصف ذلت کے ساتھ ماتھا امریکی کبر و نخوت کے سامنے خاک پر رگڑ رہے ہیں اور اس گرتی ہوئی سلطنت کے لئے دُودھار گائے کی حد تک گر گئے ہیں۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ بس چاپلوسی اور ذلت اور خفت کے ساتھ سلامتی خرید لیں گے، لیکن ان کی ہلاکت خیز خفت و چاپلوسی کے عین موقع پر یہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو کھڑا ہے۔ سیدھی قامت اور بھینچی ہوئی مٹھی کے ساتھ۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو دنیا کی اس بدمعاش ترین عالمی طاقت کو گڑگڑا کر خوشنود کرنے کے بجائے، اس پر اپنے جدیدترین ہتھیاروں سے لرزہ بر اندام کر دیتا ہے۔

وہ سمجھ رہے تھے کہ ایران وہی دوسری عالمی جنگ کے دور کی نہتی سرزمین ہے؛ سمجھ رہے تھے کہ ایران وینزویلا ہے جس کے صدر کو انہوں نے اغوا کیا اور وینزویلا کے وسائل کے ہولی سولی مالک بن بیٹھے! سمجھ رہے تھے کہ ایران میں ویسی ہی کاروائی کرکے چند ہی گھنٹوں میں پورے ملک پر قابض ہوجائیں گے لیکن وہ غافل تھے اس حقیقت سے کہ یہ بیداری اور مقاومت کی سرزمین ہے اور استکبار کے قلعوں کو اس ملک کے باسیوں کے عزم کے سامنے سر تعظیم خم کرنا پڑتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر کے درمیانی حصے کا خلاصہ:

اس تحریر میں ایران کی حالیہ فوجی کامیابیوں کو امریکی طاقت کے خلاف تاریخی اور مؤثر انتقام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مصنف ایران کے ماضی (پہلوی دور) کا موازنہ موجودہ حالات سے کرتا ہے، جہاں ایران "کیپیٹولیشن" جیسی ذلت آمیز معاہدوں کا شکار تھا اور امریکی مفادات کا محافظ بن کر رہ گیا تھا۔ آج، یہی ایران میزائل قوت کے ذریعے امریکہ کو لرزہ براندام کر رہا ہے۔

مصنف لکھتا ہے:

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا خیال تھا کہ ایران وینزویلا کی طرح جلدی سے شکست کھا جائے گا، لیکن انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

پینٹاگون کی جدید ترین ریڈار سسٹمز ناکارہ ہو گئے، ڈیٹا سینٹرز جل گئے، اور امریکی فوج "مکمل تاریکی" میں دھماکوں کی آوازیں سنتی رہی۔

آپریشن "نصر 2" اور آپریشن "صاعقہ" میں ایرانی میزائلوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جن میں کویت کے "علی‌السالم"، "العدیری"، "الدوحہ" اور "عریفجان"۔

عراق کے اربیل میں امریکی قونصلیٹ کے قریب دھماکوں نے پوری خطے میں امریکی پروازیں معطل کر دیں، حالانکہ اربیل امریکی استکبار کی خلوتگاہ بن گیا تھا۔

بڈھی لومڑی (برطانیہ) کو بھی پیغام دیا گیا کہ اگر اس نے امریکہ کو اپنی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی تو اس کو سخت جواب دیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ڈپلومیسی کے نام پر "کامیڈی" اور "مسخرہ پن" کا سلسلہ جاری رکھا۔

ٹرمپ اور گراہم نے کھل کر "نظام کی تبدیلی" کی بات کی تھی اور آخر کار لنڈسے گراہم مر گیا اور ٹرمپ نظام کی تبدیلی سے آبنائے ہرمز کھولنے تک نیچے اتر آیا اور اسے بھی نہ کھول سکا۔

تکنیکی تجزیے کے مطابق، امریکہ نے ہفتوں میں دسوں ارب ڈالر کا اسٹراٹیجک اسلحہ اپنے اڈوں کے دفاع کے لئے ضائع کیا؛ جبکہ دفاعی کمپنیاں ناکارہ ثابت ہوئیں۔

نتیجتاً، امریکہ دوسرے مرحلے میں اپنے طیارے استعمال کرنے سے ڈر گیا، اور اسلحے کی تبدیلی کی شرح انتہائی کم تھی۔

ٹرمپ نے فرعون و نمرود کا کردار ادا کرنا چاہا مگر اس کی جنگی دھمکیاں اب "خالی دعوے" ہیں۔

ایرانی افواج کی کامیابی در حقیقت "وہمیات کی امریکی سلطنت" کی کایا پلٹ اور ایران کی خود اعتمادی اور استکبار کے خلاف ایرانی افواج کی فتح ہے۔

۔۔۔۔۔

تحریر کے آخری پیراگراف:

دریں اثنا، اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنا نظریہ "ہارڈ ویئر حقیقت پسندی (Hardware realism)" سے اخذ کیا؛ اور "بالادست ترتیب (Hegemonic order)" سے آگے "نئی علاقائیت (New regionalism)" (اور نئی علاقائی ترتیب [New regional Order]) کی طرف بڑھ گیا۔ ایک ایسی علاقائی ترتیب جس میں پائیدار امن و سلامتی "درون زاد (Indigenous)" ہوگی اور امریکی فوجی چھتری پر منحصر نہیں ہوگی۔ ایران نے دنیا کو سمجھا دیا کہ ایران کے ساتھ پرامن بقائے باہمی ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔

آج، اسلامی جمہوریہ ایران، ایک "حقیقی علاقائی طاقت" کے طور پر عالمی طاقتوں کے دوسرے گروپ میں اپنا مقام بنا چکا ہے۔ ایران نہ صرف نقل و حمل کی راہداریوں کا مرکز ہے بلکہ اس خطے میں عالمی طاقتوں کے لئے بھی روک اور بریک بھی بن چکا ہے۔

علاقائی حکومتوں کے لئے امریکہ کا ساتھ دینے کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب وہ بھی لرزہ بر اندام ہو گئے ہیں۔

اس میدان میں، ریڈار اب فیصلہ کن نہیں ہیں، اور نہ ہی بڑے بحری بیڑے مؤثر رہے ہیں۔ جو چیز فیصلہ کن ہے وہ ہے "قوم کی بصیرت" اور "مجاہدوں کا عزم"۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے آج  صرف دشمن کے اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا؛ بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں "مغرب کا سلامتی نظام" منہدم کر دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے عیاں کرکے دکھایا کہ وہ جو بھی نیا محاذ کھولتے ہیں وہ ایک اسٹراٹیجک غلطی کا اعادہ ہوتا ہے اور اس کا انجام صرف ایک ہی چیز ہے: دشمن کی ذلت اور عزیز ایران کی سرخروئی اور سربلندی، جو ایک قابل تقلید مثال ہے۔

آخر میں، محبت اور عزت سے بھرے دل کے ساتھ، میں ان بہادروں کو درود و سلام بھیجتا ہوں جن کے نام اس فتح کے ایوانِ اعزاز و افتخار میں کندہ ہوئے۔ سلام ہو "وحیدی"، "حاتمی"، "عبداللٰہی"، "سید مجیدد موسوی"، "رادان"، اور "عظمایی" کی استقامت کو؛ نیز دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ میں شہید ہونے والے کمانڈروں کی استقامت و شہادت کو؛ سلام ہو و درود ہو فوج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، بسیج اور بحری، بری، فضائی اور ایرواسپیس کے مخلص مجاہدوں کو جنہوں نے اپنے خون اور پسینے اس پرشکوہ فتح کو رقم کیا۔

دشمن نہیں چاہتا تھا کہ انجام اس قدر عظیم اور پرشکوہ ہو لیکن بہرحال اللہ کی مشیت، رہبر عظیم الشان شہید امام خامنہ ای اور ان کے مجاہد فرزندوں نے یہ سب کر دکھایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ہادی ابراہیمی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha